275

بریلینٹ فورم میں ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد

بچوں اور ماؤں کی دیکھ بھال کے لے ایک ہفتہ نہیں پورا سال کام کرنے کی ضر ورت ہے ان خیالات کا اظہار ممتاز ماہر تعلیم و ہوسٹ ایف ایم نے ’’ماں اور بچے کی صحت ، صحت مند معاشرے کی بنیاد‘‘کے موضوع پر منعقدہ سیمینار اور واک سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن، انجمن فلاح مریضاں نے پاکپتن پیرامیڈیکل کالج میں بریلینٹ فورم کے تحت کیا ۔ جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن حکیم لطف اللہ نے کہا کہ صحت مند معاشرہ کے لیے پڑھی لکھی اور صحت مند ماؤں کی ضرورت پر زور دینا ہو گا ۔ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی جنرل سیکرٹری انجمن فلاح مریضاں وانچارج بریلینٹ فورم نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 42 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر دماغی اورجسمانی کمزوریوں کا شکار ہیں جبکہمتوازن اور مکمل غذا نہ ملنے کی وجہ سے مائیں خون کی کمی کا شکار ہیں ۔ماہر غذائیات ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاکپتن شہزاد منظور نے کہا کہ دو سال تک ماؤں کو اپنے بچوں کو دودھ پلانا چاہیے۔6ماہ تک صرف ماں کا دودھ اور دو سال تک دیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ دودھ پلاتے رہنا چاہیے۔ ماں کے دودھ کا ایک ایک قطرہ سونے کی بوندوں کی مانند ہے۔ ماں کے دودھ سے بچوں میں قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے جو بیماریوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔محترمہ رخسانہ منظور صدر خواتین ونگ پی ٹی آئی پاکپتن نے کہا کہ خواتین میں موٹاپا ،بلڈپریشر،کولیسٹرول،چھاتی کا کینسر،شوگر،ہڈیوں میں درد،دل کی امراض کی بڑی وجہ بچوں کو بچپن میں دودھ کی صورت میں مکمل غذا کا نہ ملنا ہے۔دودھ پلانے والی مائیں کواپنے اور بچوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے ذمہ داری ادا کرنی چاہیئے۔ڈاکٹر محمود ریاض جوئیہ پرنسپل پاکپتن پیرامیڈیکل کالج نے کہا کہ بچوں کو فیڈر میں دودھ پلانے سے اجتناب کریں۔بچے فیڈرکی وجہ سے موٹاپے اور معدے کی بیماریوں کا شکارہوتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کی ہم اپنے گھر میں ہفتہ بھر کی خوراک کا چارٹ ترتیب دیں۔خاص طور پر حاملہ خواتین کے لیے الگ چارٹ تر تیب دیں۔محمد ارشد کرڑ نے کہا کہ حاملہ خواتین کو نو ماہ تک اپنے قریبی ہسپتال میں مسلسل چیک کروانا چاہیے۔مفتی محمد زاہد اسدی نے کہا کہ خوراک کی کمی کی بنیادی علم اور شعورر کی کمی ہے۔ماں اور بچوں کی صحت کے لیے سکولوں اور کالجز کی سطح پر آگاہی کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کے سیمینار اور ورکشاپ کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔متعلقہ محکموں کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔جس سے شرح اموات اور بیماریوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔سیمینار سے ڈاکٹر غلام عباس،حکیم یٰسن چاولہ، اویس عابدایڈووکیٹ، سلمان وٹو، رانا شکیل، بی اے وٹو، محمدمنظور ، اظہرمحمود اجی خان، عبدالرحمان وٹو اور دیگر نے بھی خطاب کیا اور ماں وبچے کی صحت کی ضرورت اور اس ضمن اٹھائے جانے والے ضروری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ بعد میں شرکاء نے کالج سے ساہیوال روڈ تک آگاہی واک میں بھی شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں