375

بے غیرت (افسانہ)

تحریر: ماہ نور رانا (سرگودھا )

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

کنان ،کیا تم ریلی میں شریک ہوگے؟”کیفیٹیریا سے پارکنگ کی طرف جاتے ہوئے وہ جواپنے موبائل میں مگن اپنے دوستوں کی گفتگو سے مکمل انجان تھا اچانک متوجہ ہوا۔سالار سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔احسن ،علی اور عامر بھی متوجہ تھے۔”کونسی ریلی؟” اس نے موبائل جیب میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔”دراصل ہم غزہ میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کل ایک ریلی نکال رہے ہیں،جس میں ہم اپنے مسلمان بھائیوں ، بہنوں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کریں گے۔”سالار نے جواب دیا۔
“اچھا۔۔۔اور تمہارا خیال ہے اس ریلی کے نتیجے میں ان کو تحفظ مل جا ئے گا؟”۔اس نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔
“شا ید۔۔۔کوشش تو کرنی چاہیے نا۔” احسن نے جواب دیا۔
“تو پھر فائدہ ؟ ” کنان تنزیہ ہنسا۔
“ان کو انصاف ملے گا یا نہیں یہ تو معلوم نہیں مگر روز حشر ہم اللہ کے سامنے یہ کہنے کے تو قابل ہوں گے کہ جب زمین پر ظلم کا غلبہ تھا تو ہم آگ لگانے والوں نہیں بلکہ بجھانے والوں میں شامل تھے۔” سالار نے پر عزم لہجے میں جواب دیا۔
“میرا خیال ہے میں شریک نہیں ہو پاؤں گا۔”کنان نے کہا۔
“لیکن کیوں؟” احسن نے حیرانی سے استفسار کیا۔
“یار ان ریلیوں سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگے گی۔الٹا وہی پولیس کی رکاوٹیں ، آنسو گیس اور فساد جس کا نتیجہ ہم میں سے دو چار کی موت اور چند ایک کی گرفتاری کے سوا کچھ نہ ہوگا۔مجھے اپنی جان کی تو پرواہ نہیں مگر اپنی بیوہ ماں اور یتیم بہنوں کو اکیلا چھوڑ کر ان جھنجھٹوں میں نہیں پڑ سکتا۔والد کی وفات کے بعد ان کی حفاظت میری ذمہ داری ہے۔” اس نے نم لہجے میں جواب دیا۔
“لیکن غزہ کے بچوں کی حفاظت۔۔۔”،احسن کچھ کہنے ہی والا تھا کہ سالار نے اشارے سے منع کردیا۔
“چلو پھر ملتے ہیں۔” علی اپنی موٹرسائیکل پر سوار ہوتا ہوا بولا۔عامر کنان کے ساتھ اسکی موٹر سائیکل پر سوار ہو گیا۔”اوکے یار خدا حافظ ! ” سالار بولا۔
سالار اور احسن اپنے ہاسٹل کی جانب چل دیے۔
ابھی عامر اور سالار یونیورسٹی سے تھوڑا ہی آگے پہنچے تھے کہ انہیں کچھ اور ہاسٹلائٹس یونیورسٹی کی طرف جاتے دکھائی دیے۔انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور فلیکس اٹھا رکھے تھے جو ریلی میں استعمال ہونا تھے۔ان کو دیکھ کر عامر بولا “ہاسٹل میں رہنے والے ان سرگرمیوں کا حصہ بن سکتے ہیں کیوں کہ ان پر گھر کی ذمہ داریاں نہیں ہوتیں۔”
“ہاں بالکل۔۔۔ جن کے کاندھوں پر میری طرح ماں اور جوان بہنوں کی ذمہ داری ہو وہ کہاں سارا وقت سڑکوں پر نعرے لگاتے گزار سکتے ہیں۔” کنان بولا۔
اپنے والد کی وفات کے بعد اس نے ایک اچھا بیٹا اور غیرت مند بھائی ہونے کا ہر طرح سے ثبوت دیا تھا۔کبھی اپنی ماں کو دکان سے سودا سلف تک لانے نہ دیا۔کبھی دوستوں کے ساتھ وقت ضائع نہ کیا کہ اس کی بہن کو بسوں میں سوار ہو کر گھر ا کیلے نہ آنا پڑے۔عامر کو اس کے گھر چھوڑنے، چھوٹی بہن کنزہ کو کالج سے لینے اور گھر پہنچنے تک وہ یہی سوچ کر مطمئن تھا کہ وہ ایک اچھا بھائی اورفرماں بردار بیٹا ہے۔
کھانا کھانے کے بعد وہ کچھ دیر آرام کی غرض سے بستر پر دراز ہوا۔کچھ دیر بعد اسے بڑی بہن عروسہ کو اکیڈمی چھوڑنے جانا تھا۔وہ سونا نہیں چاہتا تھا سو ٹی وی کا ریموٹ پکڑ کر چینل سرچنگ شروع کر دی۔ ایک چینل پر ننگے پاؤں، ننگے سر ایک میت کے گرد روتی فلسطینی خواتین کی تصویر نے کنان کی بٹن دباتی انگلیوں کو ساکت کر دیا۔ چینل پر غزہ میں ہونے والے انسانیت سوز واقعات دکھائے جا رہے تھے۔وہ چاہ کر بھی چینل تبدیل نہ کر سکا۔اس کے ماتھے سے پسینہ پھوٹ رہا تھا۔اسرائیلی فوج کے ہاتھوں دھکے کھاتی ہوئی معصوم بچیوں کی تصاویر اس کی روح کو جھنجھوڑ رہی تھیں۔غزہ کی سڑکوں پر ظالم سپاہیوں کی بندوقوں سے بچتیں اپنے آنچل با مشکل سنبھالتیں تمام خواتین میں اسے اپنی بہنوں کا عکس نظر آیا۔چینل پر چلتی سرخ پٹی پر درج تھا ” غیرت امت مسلماں کہاں ہے۔۔۔؟ ”
ٹی وی پر ابھرتی تصویر اب نو عمر فسلطینی بچے کی تھی جو اسرائیلی سپاہی کے سامنے پتھر اٹھائے کھڑا، اسے للکار رہا تھا۔
کنان کو اپنی پشت سے اسی بچے کی آواز سنائی دی جو باآواز بلند کہ رہا تھا ” بے غیرت۔۔۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں