482

باو بہشتی

باؤ بہشتی
تحریر پیر شاہد علی چشتی ایڈووکیٹ بہاولنگر
ہمارے یہاں دیہاتی علاقوں میں لوگ باپ اور والد صاحب کو باؤ جی کے وزن پر خالی باؤ کہتے ہیں۔جب کسی کا باپ فوت ہوجاتا اور کہیں عزیزوں اور دوستوں میں اس کو اپنے والد کی کوئی بات یا واقعہ سنانا پڑ جاتا تو دیہاتی بےچارے ان پڑھ لوگ اپنے والد صاحب کو عزت و احترام دینے کے لئے اس کے نام سے پہلے یا ویسے ہی ذکر کرتے ہوئے باؤ بہشتی کہتے۔مطلب یہ کہ اللہ تعالی بعد از مرگ اس کے گناہوں کو معاف فرمائے اور اس کی پردہ پوشی کرے۔مجھے ان سادہ لوح دیہاتی لوگوں کی ایسی عجب باتیں سن کر خوشی ہوتی اور حیرت بھی کہ بےچاروں کو علم ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنے باپ یعنی باؤ بہشتی کے الٹے سیدھے واقعات سناتے وقت بھی باؤ بہشتی کا لفظ ضرور استعمال کرتے۔مثلا کسی نے اس سے اسکے باپ کی کردہ واردات چوری یا یاری(ناجائز تعلقات) کے بارے میں بھی پوچھ لیا تو یہ دیہاتی اپنے باپ کی چوری یا یاری کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بھی اپنے باپ کے نام کے ساتھ احتراما باؤ بہشتی کا ذکر ضرور کرتے تھے۔میں نے کئی بار اپنی گاؤں کے اکثر لوگوں جن میں ہمارا مزارعین اور گاؤں کے رہائشیوں شریف موچی، لالو چڑھویا، حافظ فرید لوہار،مستری حبیب اور چاوا سیسی اور دیگر کئی لوگوں کو اپنے بچپن میں سمجھایا کہ تم جو واقعات اپنے باپ کے نام سے خوشی خوشی سناتے ہو یہ تو اسلام میں خلاف شریعت اور قابل سزا ہیں تم کو تو ان کا ذکر کرنے کی بجائے اللہ تعالی سے اس کی معافی مانگنے کی ضرورت ہے تاکہ اللہ تعالی تمہارے باپ کو معاف۔ فرمائے مگر تم لوگ خوب مزے لیکر انکی چوری چکاری اور برائیوں کے قصے کہانی بنا کر سنا رہے اور داد وصول کر رہے ہو تو وہ مجھ سے بلا تامل کہتے تھے کہ پیر سائیں ،باؤ بہشتی اگرچہ بہت گناہ گار تھا اور کسی بھی موقع پر چوری چکاری اور دیگر کام کرنے سے سے نہیں چوکتا تھا مگر آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ باؤ بہشتی،ہرسال یہاں بہاولنگر کے دریائی علاقے سے پیدل چل کر بابا فرید گنج شکر رح کی درگاہ پر بہشتی دروازہ گزرتا تھا اور وہاں کئی مرتبہ پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں پٹائی ہونے کے باوجود بہشتی دروازہ گذر کر ہی واپس آتا تھا۔اسی طرح اگر چہ باؤ بہشتی نماز روزہ رکھنے کا روا دار نہیں تھا مگر وہ بھولے سے بھی گیارھویں والی سرکار کی یاری دلانا نہیںا۔اس نے بھولنا تھا اماں کو کہا ہؤا تھا کہ بے شک گھر کا کوئی فرد جتنا مرضی تکلیف میں مبتلا ہو اور اسے بے شک دودھ کی سخت ضرورت ہو مگر غوث پاک رح کی یاری دلانے کا نا غہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ سرکار بزرگ ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں انکی سنی جاتی ہے اور حضور نبی پاک مدینہ والا انکی وجہ سے ہم پر مہربان ہے۔وہ دیہاتی لوگ مجھے اکثر کہتے تھے کہ پیر سائیں ، یہ نیک ہستیاں اور اللہ کے ولی تو ہمیں بخشنے والے ہیں۔ہم جتنے بھی گناہ گار ہوں اور گناہ کرتے رہیں ، دوزخ کی آگ اور قبر کا عذاب ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔تو پھر ہم کیوں اپنے ابے یا باؤ کو ایسے ہی نام سے پکارین۔جب ہمارے پیو نے بابا فرید رح،غوث پاک رح اور دیوان حاجی شیر رح اور شاہ موسن رح اور خواجہ قبلہ عالم رح کے ساتھ جنت میں جانا ہے تو اپ ہمیں باؤ کو بہشتی کہنے سے کیوں روکتے ہو۔پیر سائیں پتہ نہیں تم روجھان والی شہر(بہاولنگر)کے کس مدرسہ میں کیا پڑھتے ہو۔تم تو لگتا ہے کہ پڑھ لکھ کر علامہ بننے کی بجائے پینٹ انگریز شنگریز بننے جارہے ہو۔تم شرٹ پہن کر کیا کرو گے تم تو باوا صاحب کی تعلیم سے بھی دور ہوتے جارہے ہو۔میں انکی باتیں سنتا اور گھر آکر اپنے والد محترم حاجی پیر نیاز احمد چشتی صاحب اور کبھی اپنے دادا جان حاجی پیر سردار احمد چشتی صاحب رح سے آکر رات کے وقت بی بی سی اردو سروس لندن کی خبریں سننے کے بعد ان سے پوچھتا کہ یہ ہمارے مزارعین اور بستی کے لوگ تو بالکل صحیح اسلام پر نہیں چل رہے۔ان کو تو شریعت کی ذرا سوجھ بوجھ نہیں ہے اور یہ باوا صاحب،غوث پاک،دیوان حاجی شیر رح خواجہ قبلہ عالم رح اور شاہ موسن رح کو ہی اصل اسلام سمجھتے ہیں،عمل ان کا صفر اور عقیدت کروڑ درجے کی ہے تو دادا جان اور والد صاحب مجھے سمجھاتے تھے کہ وہ لوگ صحیح کہتے ہیں جتنا وہ جانتے ہیں۔ان کا حساب کتاب اور روز قیامت معاملہ بھی اتنا ہی ہوگا جتنا وہ جانتے ہیں اور واقعی یہ بزرگان دین ان کو وسیلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ تعالی سے بخشش کروا لیں گے۔تمہیں ابھی ان معاملات کی سمجھ نہیں ہے۔جب بڑے ہوجاؤ گے تو خود بخود تمہیں سب کچھ سمجھ آجائے گا مگر میں کیا کرتا،میری میٹرک اور ایف اے کی کتابوں میں جو کچھ لکھا تھا،اس میں تو کسی باؤ بہشتی چھوڑ کسی بابا فرید گنج شکر رح اور کسی قطب غوث کا ذکر نہیں تھا۔میں سکول اور کالج سے واپس آکر شام کو کھیلنے کے لئے مستری گلزار کے گھر جاتا تو وہاں اس کے والد مستری غلام حسین کی لکڑی کے سادہ سی دکان پر چند زمیندار اور گاؤں کے کسان اپنے ہل پنجالی ٹھیک کرانے اکٹھے ہوتے تھے تو وہ پر نابینا سید عاشق حسین شاہ بھی موجود ہوتا تھا۔گلزار کا چچا مستری اظہر حسین کی شاہ صاحب سے انہی مذہبی مسائل پر نوک جھونک ہوجاتی تھی۔وہاں پر بھی گاؤں کی ساری خبریں ڈسکس ہوتیں اور چوری چکاری اور یاری بارے پریں پنچائت کی تازہ ترین رپورٹس سننے کو ملا کرتیں۔وہاں بھی اکثر لوگ اپنے والد،چچا اور دوسرے عزیزوں کو چوری چکاری کی وارداتوں سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش میں اپنے والدین کے قصے کہانیاں سناتے اور باؤ بہشتی کو لازمی طور پر ان میں ڈالا کرتے تھے۔میں کچھ عرصہ بعد سمجھ گیا کہ باؤ بہشتی ہمارے دیہاتی علاقوں کا لازمی اور لازوال کردار ہے جو کسی طور پر لوگوں سے نہیں چھڑوا یا جاسکتا۔محمد بن قاسم،شیر شاہ سوری اور اکبر اعظم کی طرح دیہی معاشرے کے تمام غلط یا صحیح کا م باؤ بہشتی نے ہی انجام دینے ہیں۔باؤ بہشتی نے اگر کوئی کام نہیں کرنا تو وہ نماز اور روزہ کی ادائیگی تھی۔باؤ بہشتی بھولے بھٹکے کبھی نماز عید بقر عید کے علاوہ مسجد یا مسیت بھی جا نکلتا تھا مگر وہ وہاں بھی چوری کے ثالثوں کو اپنی صفائی میں قرآن اٹھا کر یقین دلانے کی وجہ سے آتا تھا یا پھر مولبی صاحب کے پاس اپنے بچوں کو عربی قاعدہ پڑھانے چھوڑنے آتا تھا۔اس کے علاوہ باؤ بہشتی کی کبھی کوئی بات دین اسلام یا مسجد مسیت کے حوالہ سے نہیں سنی تھی۔البتہ کبھی کبھار اس کے نیاز اور خیر خیرات کے معاملے پر مسجد کے مولوی یا مولبی سے ہونے والی زبانی کلامی جھڑپیں تھیں جس میں باؤ بہشتی ہمیشہ مولوی صاحب کو گلیاں لینے والی نسل کے نام سے مخاطب کرکے شکست دیتا تھا۔میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اتنے سارے غیر شرعی اور غیر اخلاقی و غیر قانونی کام انجام دینے کے باوجود باؤ بہشتی کیسے جنتی ہونے کا بعد از مرگ سرٹیفکیٹ حاصل کیے پھرتا تھا۔اور مزے کی بات یہ تھی کہ میں اپنے والد صاحب اور دادا جان سمیت گاؤں کے جتنے بھی پڑھے لکھے اور ان پڑھ لوگوں سے کسی مرے ہوئے متوفی سے متعلق پوچھتا تھا تو سبھی یہی جواب دیتے تھے کہ مرحوم برا ہونے کے باوجود بہشتی روح تھا۔برسوں تک اسی لا ینحل قصے کہانیوں کے لازوال کردار باؤ بہشتی کے بارے میں بس اتنا جان پایا کہ کسی بھی مرنے والے کا ذکر کسی بھی حوالے سے کہیں پر آجائے تو اس پر ہمارے پڑھے لکھے یا ان پڑھ معاشرے کے کسی فرد نے اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے صرف اتنا ہی کہنا ہوتا ہے کہ مرحوم اللہ بخشے ایسا تھا اور ویسا تھا۔کسی ایک شخص نے بھی اللہ بخشے ضرور کہنا ہوتا ہے۔والد صاحب نے مجھے بتایا کہ لوگ مرے ہوئے شخص کی برائی بیان نہیں کرتے اور اگر کہیں انہیں مجبوری میں اس کا تذکرہ کرنا بھی پڑ جائے تو پھر اللہ بخشنے ضرور کہتے ہیں کہ ایک تو اللہ تعالی کی معافی مانگنے پر خوش ہوتی ہے اور دوسرے کسی دوسرے کی خیر اور بھلائی طلب کرنا مفت کی نیکی اور ثواب ہے۔چنانچہ باؤ بہشتی ہو یا کوئی اور ،اولاد کو ،عزیزوں اور دوستوں کو اپنے کسی مرحوم کے لئے مغفرت طلب کرتے رہنا چاہیے کہ اس کی طرف سے معافی اور مغفرت مانگنے کا حکم ہے۔حدیث مبارک میں ہے کہ بہت سے لوگ ایسے ہونگے کہ جب وہ فوت ہوئے تو بہت گناہ گار تھے مگر انکے لواحقین اور دوستوں رشتہ داروں نے ان کی بخشش اور مغفرت کے لئے بہت ایثار کیا اور جب وہ روز محشر اپنی قبروں سے اٹھے تو انکے گناہوں کا انبار ختم ہو چکا تھا اور وہ محض اپنے لواحقین اور دوستوں رشتہ داروں کی پیچھے سے کی گئی نیکیوں اور خیر خیرات سے آخری زندگی میں کامیاب کامران ہوئے۔ان کو یہ صلہ اللہ تعالی کے نیک اور صالح بندوں اور اولیاء کرام پر پختہ یقین رکھنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غلاموں سے رابطہ رکھنے سے حاصل ہوا اور اولیاء کرام کے ساتھ عقیدت اور محبت کی وجہ سے گناہ گار ہونے کے باوجود وہ لوگ اپنے لواحقین کے لئے باؤ بہشتی اور دوستوں رشتہ داروں کے لئے اللہ بخشنے کا کردار بنے رہے تاوقتیکہ اللہ تعالی کی مہربانی اور معافی ان کا مقدر ٹھہری۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں