271

33 سال قبل حکومتی اداروں کی غلطی کی سزا لاکھوں شہریوں کو دینا نانصافی ہوگی۔مقررین

پاکپتن۔ 33 سال قبل کی حکومتی نااہلی کی سزا لاکھوں شہریوں کو دینا نا انصافی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے متاثرین دربار زمین کیس کے متاثرین کے اجتماع سے اویس عابد ایڈووکیٹ، حکیم لطف اللہ ، راو عظمت اللہ و دیگر نےخطاب کرتے ہوئے کیا۔ متنازعہ زمین کی خرید وفروخت گزشتہ 33 سال سے جاری تھی ۔ عوام نے سرکاری ریکارڈ کے مطابق مالکان سے باقاعدہ ادائیگی کرکے زمینیں خریدیں اور محکمہ مال سے باقاعدہ رجسٹری وانتقال ہوئے۔ اگر یہ جگہ اوقاف کی تھی تو پھر ریکارڈ میں اس کا اندراج کیوں نہ تھا اب ساڑھے آٹھ ہزار خاندانوں کے لاکھوں افراد جو نسل در نسل ان زمینوں پر بس رہے ہیں اور اب اچانک انکشاف ہوا کہ یہ جگہ دربار کی ملکیت ہے اور محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہے۔ اس معاملہ کا نوٹس لے کر چیف جسٹس نے تمام آٹھ ہزار سے زائد متاثرین اور سابق وزیر اعلی پنجاب نواز شریف کو بھی طلب کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں