209

اگر شر اور شریر کو پنپنے کا مزید موقع دیا گیا تو انجام خیر نہ ہو گا۔ مفتی زاہد اسدی

ساہیوال (خصوصی رپورٹ) ڈویژنل پولیس افسران ،انتظامیہ و پیس کمیٹی کی میٹنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پاکپتن اتحاد بین المسلمین کے صدر مفتی زاہد اسدی نے کہا کہ انسانی فکر اور خیال کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔افکار اور خیالات کی کثرت نیز مزاج اور طبیعت کے تنوع سے نقطہ نگاہ اور زاویہ فکر کا تنوع ایک طبعی ، نفسیاتی بلکہ حقیقی امر ہے ۔تمام اختلاف ختم نہیں کیے جا سکتے چاہے انکا تعلق مذہبی ، مسلکی ، سماجی یا سیاسی کسی بھی شعبہ سے ہو ۔۔۔۔ بسا اوقات اختلاف کی موجودگی میں مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے آگے بڑھنا ہوتا ہے اس احتیاط کے ساتھ کہ اختلاف مخالفت نہ بنے ۔ اختلاف تغایر رہے تناقض اور اس سے بڑھکر قتل و کشت تک نوبت نہ آءے ۔ معمولی نوعیت کے آپسی معاملات ملک و ملت کے وسیع تر مفادات کی راہ میں حائل نہ ہوں ۔ ہر پاکستانی کو (چاہے کسی شعبہ سے بھی متعلق ہے ) ریاستی استحکام اور بقائے پاکستان کے بیانیہ کا تحفظ کرنا ہے ۔ بسا اوقات ہم ایسے مسائل پر الجھ رہے ہوتے ہیں کہ جنکی حقیقت حال کو ہم خود نہیں جانتے چہ جائیکہ ہم انکا حل دے سکیں ۔ ریاست محض جذبات اور طبعی رجحانات سے نہیں چلتی ۔ تمام مسالک کےعلماء کرام اپنی جماعتوں میں موجود ان شر پسندوں کی حوصلہ شکنی کریں جو دین و ملک کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ہر صاحب اختیار و اقتدار اپنے ماتحت عملہ یا اصحاب رجوع کی زبردست تربیت کرے ۔اگر شر اور شریر کو پنپنے کا مزید موقع دیا گیا تو انجام خیر نہ ہو گا۔ اللہ تعالی تمام دوستوں کے دینی و ملی شعور کو مزید بڑھائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں