251

علامتی کہانی

تحریر: طیب صدیقی

الجبرے کے الجھے ہوئے فارمولوں کی طرح وہ جانے کس خیال میں الجھا ہوا جا رہا تھا بازار کی رونقوں سے اسے کوئی سروکار نہیں تھا ہر چیز سے بے نیاز وہ اپنی ہی دھن میں ایک انجانی منزل کی طرح رواں دواں تھا کہ اچانک دائیں طرف سے اسے ایک دھکا لگا اور وہ نفی کا نشان بنا زمیں پر پڑا تھا حواس بحال کرنے کے بعد اٹھ کھڑا ہوا اور دیکھا کہ جس کی ٹکر سے وہ گر گیا تھا وہ حسین و جمیل دوشیزہ تھی جس کی خوبصورتی واقعی دل موہ لینے والی تھی ۔ وہ بھی اس سے ٹکرانے کےبعد زمین پر گری ہوئی تھی اور شاید اس کو زور سے ٹکرانے پر کوئی ایسی ضرب لگی تھی کہ وہ آنکھیں بند کئے زمین پر لیٹی کراہ رہی تھی اس کے دونوں ہاتھوں میں پکڑے ہوئے شاپر اسے کے اطراف میں پڑے ہوئے تھے اور وہ زمین پر ایک بڑا سا تقسیم کا نشان بنی ہوئی تھی چند لمحوں بعد وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اپنی چیزیں خود ہی اٹھائیں اور پھر مبہوت کھڑے شخص کو مخاطب کرکے شرماتی ہوئی معذرت کرنے لگے کہ جلدی میں تھی جس کی وجہ سے اچانک ٹکر ہوگئی اس نے بھی کچھ اس کے حسن سے اور کچھ اس کی آواز و انداز سے متاثر ہو کر اس کی معذرت قبول کر لی جیسے ہی اس نے اس کی معذرت قبول کی لڑکی نے ایک نظر اٹھا کر دیکھا اور شکریہ ادا کیا لیکن اسے علم ہی نہ ہوا کہ اس کی ترچھی نظر کی ضرب سیدھی دل پر پڑی اور دل کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ اسی کے حسن و جمال کے نشے میں مخمور وہ گھر پہنچا اور پھر بس دن رات اسی کا خیال اور اسی کو حاصل کرنے کی چاہت۔۔۔۔۔
پھر ایک دن وہ پھر سے اسے دکھائی دی اور جا کر اس سے سیدھا یہی سوال کیا۔۔۔۔ مجھ سے شادی کرو گی؟
اس نے پہلے تو ٹھٹک کر دیکھا پھر اس نے ایک بار کئے ہوئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ نہیں, نہیں۔۔۔۔۔
اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ دو منفیوں کا حاصلِ ضرب مثبت ہوتا ہے یوں اس نےفرض کر لیا کہ اس کے دوبار کی گئی “نہیں نہیں” بھی دراصل اثبات ہے۔۔۔

طیب صدیقی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں