323

علامتی کہانی

تحریر: طیب صدیقی

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

الجبرے کے الجھے ہوئے فارمولوں کی طرح وہ جانے کس خیال میں الجھا ہوا جا رہا تھا بازار کی رونقوں سے اسے کوئی سروکار نہیں تھا ہر چیز سے بے نیاز وہ اپنی ہی دھن میں ایک انجانی منزل کی طرح رواں دواں تھا کہ اچانک دائیں طرف سے اسے ایک دھکا لگا اور وہ نفی کا نشان بنا زمیں پر پڑا تھا حواس بحال کرنے کے بعد اٹھ کھڑا ہوا اور دیکھا کہ جس کی ٹکر سے وہ گر گیا تھا وہ حسین و جمیل دوشیزہ تھی جس کی خوبصورتی واقعی دل موہ لینے والی تھی ۔ وہ بھی اس سے ٹکرانے کےبعد زمین پر گری ہوئی تھی اور شاید اس کو زور سے ٹکرانے پر کوئی ایسی ضرب لگی تھی کہ وہ آنکھیں بند کئے زمین پر لیٹی کراہ رہی تھی اس کے دونوں ہاتھوں میں پکڑے ہوئے شاپر اسے کے اطراف میں پڑے ہوئے تھے اور وہ زمین پر ایک بڑا سا تقسیم کا نشان بنی ہوئی تھی چند لمحوں بعد وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اپنی چیزیں خود ہی اٹھائیں اور پھر مبہوت کھڑے شخص کو مخاطب کرکے شرماتی ہوئی معذرت کرنے لگے کہ جلدی میں تھی جس کی وجہ سے اچانک ٹکر ہوگئی اس نے بھی کچھ اس کے حسن سے اور کچھ اس کی آواز و انداز سے متاثر ہو کر اس کی معذرت قبول کر لی جیسے ہی اس نے اس کی معذرت قبول کی لڑکی نے ایک نظر اٹھا کر دیکھا اور شکریہ ادا کیا لیکن اسے علم ہی نہ ہوا کہ اس کی ترچھی نظر کی ضرب سیدھی دل پر پڑی اور دل کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ اسی کے حسن و جمال کے نشے میں مخمور وہ گھر پہنچا اور پھر بس دن رات اسی کا خیال اور اسی کو حاصل کرنے کی چاہت۔۔۔۔۔
پھر ایک دن وہ پھر سے اسے دکھائی دی اور جا کر اس سے سیدھا یہی سوال کیا۔۔۔۔ مجھ سے شادی کرو گی؟
اس نے پہلے تو ٹھٹک کر دیکھا پھر اس نے ایک بار کئے ہوئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ نہیں, نہیں۔۔۔۔۔
اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ دو منفیوں کا حاصلِ ضرب مثبت ہوتا ہے یوں اس نےفرض کر لیا کہ اس کے دوبار کی گئی “نہیں نہیں” بھی دراصل اثبات ہے۔۔۔

طیب صدیقی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں