353

پس پردہ (افسانہ)

تحریر: طیب صدیقی

یونیورسٹی میں میرا پہلا دن تھا جیسے ہی میں یونیورسٹی میں داخل ہوا اندر کے ماحول نے میرے ہوش اڑا دیئے۔ لڑکے اور لڑکیاں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھوم رہے تھے۔ کہیں گراؤنڈ میں کوئی لڑکا کسی لڑکی کی گود میں سر رکھے لیٹا ہے تو کہیں لڑکی کسی لڑکے کے کاندھے پر سر رکھے مسکرا کر باتیں کر رہی ہے اس ماحول کو اور لڑکوں اور لڑکیوں کا اس طرح بے تکلفی سے ایک دوسرے سے تقریباً لپٹ لپٹ کر باتیں کرنا دیکھ کر میرے ذہن میں سب سے پہلی بات یہ آئی کہ یہ سب بہن بھائی تو ہو نہیں سکتے پھر بھی یہ آپس میں اتنے۔۔۔۔
خیر میں نے اپنی کلاس وغیرہ کی تفصیل معلوم کر کے سوچا کہ آج پہلا دن ہے کلاس میں نہیں جاتا اور کینٹین سے کھانے کی چند چیزیں اور جوس لے کر ایک پلاٹ میں گھاس پر بیٹھ گیا اور ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لینے لگا کہ اتنے میں میرے قریب آہٹ ہوئی چونک کر دیکھا تو حیران رہ گیا اتنی حسین اور معصوم سی لگ رہی تھی خیر میں خاموشی سے بیٹھا رہا اور وہ بھی میرے قریب آ کر بیٹھ گئی میں نے تھوڑی دیر بعد نظریں چرا کر دیکھا تو وہ میری طرف ہی دیکھ رہی تھی آنکھوں میں سوال تھا یا کسی چیز کی کی طلب تھی میں سمجھ نہ سکا بہرحال میں نےبسکٹ نکال کر اسے دیئے اور اپنا جوس کا ڈبہ بھی اس کی جانب بڑھا کر رکھ دیا۔ جس پر اس کی نظر کافی دیر سے تھی۔ بسکٹ کھانے کے بعد جوس کا ڈبہ لے کر وہ چلتی بنی میں اس کی اتنی بیباکی پر حیران ہوا لیکن بس حیران ہی ہوا۔
کچھ دیر بعد میں نے اٹھ کو یونیورسٹی کا چکر لگانا شروع کیا تاکہ کلاسز کا معلوم ہو سکے ایک برآمدے میں سے گزر رہا تھا کہ دیکھا وہ ایک ستون کیساتھ بیٹھی ہوئی ہے مجھے دیکھ کر وہ میرے پیچھے پیچھے چل پڑی لیکن میں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔
یونیورسٹی کا چکر لگانے کے بعد میں گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ اگلے دن یونیورسٹی پہنچا تو پہلے سے وہاں پلاٹ میں گھاس پر بیٹھی ہوئی تھی مجھے دیکھتے ہی وہ اٹھی اور میرے پیچھے چل پڑی۔ میں کلاس میں جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا اتنے میں پروفیسر صاحب بھی کلاس میں داخل ہوئے پروفیسر صاحب کو کلاس میں آتا دیکھ کر باہر کھڑے لڑکیاں لڑکے اندر آگئے
May i come in sir
کا ایک شور سا مچ گیا سب طالبعلم اندر آگئے پروفیسر صاحب لیکچر شروع کرنے ہی والے تھے ایک انوکھی سی آواز آئی, ” میں آؤں” سب طالبعلم حیران ہو کر دروازے کی طرف دیکھنے لگے لیکن وہ کسی بھی جواب کا انتظار کئے بغیر اندر آگئی اور سب سے آخر پر بیٹھ گئی جہاں میں جاتا وہ بھی پہنچ جاتی۔ اس کو میری سخاوت پسند آئی یا پھر پتا نہیں کون سی ادا پسند آئی اس نے میرے ساتھ وقت گزارنا شروع کر دیا آہستہ آہستہ ہم بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوگئے۔اور پھر وہی ہوا ہم بھی یونیورسٹی والے ماحول میں ڈھل گئے میں پلاٹ میں بیٹھا ہوتا تو وہ میری گود میں سر رکھ کے لیٹ جاتی اور میں اس کے ریشمی بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہتا اس کو یہ بالکل پسند نہیں تھا کہ کوئی اور میرے پاس آکر بیٹھے جی کوئی طالبعلم لڑکا یا لڑکی میرے پاس آتا تو اسے ناگوار گزرتا اور اس کا اظہار وہ اس طرح کرتی کہ وہاں سے خاموشی سے اٹھ کر چلی جاتی۔ پھر نوبت یہاں تک آگئی کہ ہم دونوں اس قدر ایک دوسرے کے پیار میں دیوانے ہو گئے کہ ایک دوسرے سے دور نہیں رہ سکتے تھے۔ اب وہ وقت آگیا تھا کہ میں اپنے گھر والوں سے بات کرتا۔
ابا سے بات کرنا تو گویا موت کو دعوت دینا تھی لیکن میں نے اماں سے بات کر کے منا ہی لیا اماں نے کہا کہ تمہارے ابا نہیں مانیں گے میں نے اماں کو اس کی تصویریں دکھائیں تو اماں کو بھی بہت پیاری لگی کہنے لگی ایک دن گھر لے آؤ اس کو پھر ابا سے بات کر لینا میں نے بھی اسی میں بہتری سمجھی اور ایک دن اسے ساتھ گھر لے آیا مجھے معلوم تھا کہ ابا سے بہت ڈانٹ پڑنے والی ہے جیسے ہی اسے ساتھ لئے گھر میں داخل ہوا دیکھا ابا صحن میں مرغیوں کو دانہ ڈال رہے تھے ہم دونوں کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر ایک دم ابا کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو گئیں اور تیز تیز چلتے ہوئے میری طرف آئے اور مجھے بازو سے پکڑ کر غصے سے پوچھا کیوں لے کر آئے ہو اسے یہاں؟ میں خاموشی سے سر جھکائے کھڑا تھا کہ ابا نے ایک زور دار تھپڑ لگاتے ہوئے کہا کہ کیوں لے کر آئے ہو اسے تمہیں پتا نہیں کہ یہ ساری مرغیاں کھا جائےگی ابھی کے ابھی اس بلی کو وہیں چھوڑ آؤ جہاں سے لائے ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں