343

منحوس (افسانہ)

ازقلم: یاسر رضا آصفؔ

محبت انسان کو اپنے وجود سے قریب کرتی ہے انسان نے جب محبت کو رخصت ہوتے دیکھا تو اس کا جھکاؤ فطرت کی طر ف ہوگیا۔ کہتے ہیں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب محبت کی دیوی انسانوں کے درمیان رہتی تھی مگر خود غرضی اور لالچ کے شیطانوں نے اسے بھگا دیا یوں محبت نے بھی فطرت میں پناہ لے لی۔

چاچا برکت بھی کچھ اسی قسم کی محبت کا اسیر ہوچکا تھا وہ ایک پیڑ کی نگہداشت اولاد کی طرح کرنے لگا تھا اس سے گھنٹوں باتیں کرتا جب پیڑ پر لگے آم کچھ بڑے ہوجاتے تو انہیں گھاس پھوس میں دبا دیتا کچھ دوا دارو لگاتا۔ پک جانے پر بیچنے کی بجائے گاؤں کے لوگوں میں تقسیم کردیتا۔ پیڑ سے ملحقہ کیاریوں میں حسب ضرورت سبزی بیجا کرتا ۔

گاؤں کوجانے والی کچی سڑک کے کنارے پر پیڑ مسافروں کے سستانے کی جگہ بھی تھا۔ پیڑ کے گرد گولائی کی شکل میں چبوترہ بنایا گیا تھا جس پر کوئی بھی شخص آرام سے بیٹھ سکتا تھا۔ اس تھال نما چبوترے پر دوگھڑے ہر وقت بھرے بھرائے پڑے رہتے۔ جو کڑکڑاتی گرمی میں راہگیروں کی پیاس بجھانے کا ذریعہ بنتے۔ یہ پیڑ قدوقامت کے لحاظ سے دوسرے درختوں سے کوئی دوچار ہاتھ بڑا ہی تھا۔ اس میں چاچا برکت کی دن رات کی نگہداشت کا بھی دخل تھا۔ وہ پیڑ کی محبت میں کچھ ایسا ڈوبا تھا کہ اپنی ذات تک کو فراموش کر بیٹھا تھا۔
چاچا برکت گاؤں کارہنے والا عام سا شخص تھا جس کے پاؤں میں پہنا کھسہ کئی جگہ سے پھٹا ہوتا کپڑوں پر مٹی اور دھول کی تہیں جمی رہتی ، سر کے سیاہ اور سفید بال ہروقت بے ترتیبی کا شکار رہتے اور آنکھوں کے گرد پڑی جھریاں بڑھتی ہوئی عمر کا پتہ دیتیں۔ اس سب کے باوجود چہرے پر آسودگی اور راحت تھی۔ ایسی آسودگی جو دولت اور عیش وآرام سے حاصل نہیں ہوتی۔ برکت کے نام کے ساتھ چاچا کا سابقہ کس وقت لگایا گیا یہ تو اب وہ خود بھی نہیں جانتا تھا جیسے ہی اس کے بالوں میں کچھ سفیدی ابھری تو لوگوں نے اسے چاچا کہنا شروع کردیا گاؤں کا ہر چھوٹا بڑا اسے چاچا برکت کہہ کر پکارنے لگا۔ چاچا کہنے سے اسے کچھ بڑا ہونے کا احساس بھی ہوا۔ شاید اسی لیے اس نے کسی کو ٹوکا نہیں۔

آم کا پیڑ اپنے پورے جوبن پر تھا ہوا میں اس کی شاخیں کسی رقاصہ کے بازؤں کی طرح لہراتیں۔ اس مرتبہ ساون بھی اپنے زوروں پر تھا۔ بادل بار بار آتے اور جل تھل کرکے گزرجاتے۔ ساون کی باتیں چند لمحوں سے لے کر کئی گھنٹوں پر محیط ہوتی تھی۔ گرمی کا زور ٹوٹنے سے ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔ جانور خوشی سے جھومنے لگتے۔ بچے بارش میں نہانے لگتے ۔ چاچا برکت بارش کے دوران اپنی چھوٹی سی کائنات کو محفوظ کرنے میں لگارہتا۔ سنسان گھر کی بجائے وہ پیڑ کے آس پاس زیادہ وقت گزارتا۔ ویسے بھی گھر میں تھا کون، جس کے لیے وہ گھر لوٹ کرجاتا۔ وہ پیڑ سے باتیں کرتا۔ کھڑے کھڑے تھک جاتا تو تھال پر بیٹھ کر گفتگو کرنے لگتا۔ مٹی کے پیالوں میں پانی پیتا، تھوڑی دیر آرام کرتا اور اپنی داستان شروع کردیتا۔ کچھ لوگ اسے چاچا برکت کا پاگل پن سمجھتے تو کچھ تنہائی کو مورد الزام ٹھہراتے۔ چاچا برکت اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد پھر کیاریوں میں جا بیٹھتا۔ یہ سلسلہ ایک طرح سے اس کی ذات کے کتھارسس کا ذریعہ تھا۔

آج بارش نے کچھ ایسا زور پکڑا کہ جیسے نالوں میں پانی کا سیلاب آگیا ہو۔ بجلی کڑکی تو لوگوں نے یا اللہ رحم کا ورد شروع کردیا۔ چاچا برکت بے اختیار کیاریوں کی طرف بھاگا۔ ابھی وہ کیاریوں سے خاصے فاصلے پر تھا۔ اچانک اس کے اٹھتے قدم رک گئے، وہ ساکت ہوگا۔ بجلی کی چمک نے چند لمحوں کے لیے اس کی آنکھیں چندھیا دی تھیں لیکن آہستہ آہستہ اسے دوبارہ سے کچھ دکھائی دینے لگا۔ اپنا بھیگا وجود اور کیچڑ زدہ پاؤں لئے جب وہ کیاریوں کے پاس پہنچا تو اس کا لاڈلا سیاہ ہوچکا تھا۔ ابھی تک پیڑ میں سے دھواں اٹھ رہا تھا یہ منظر دیکھ کر اس کے گھٹنے زمین پر جالگے۔ اس کے آنسو بارش کی بوندوں میں مل گئے مگر ان کا ذائقہ اس نے گلے میں محسوس ضرور کیا۔

بارش کی بوندوں نے درخت سے اٹھنے والے دھوئیں کو دھیرے دھیرے کم کردیا۔ درخت کی راکھ پانی کے ذریعے اس کے قریب سے گزرنے لگی۔ پانی کے ساتھ بہتی ہوئی سیاہ راکھ اسے وجود کے اندر اترتی محسوس ہورہی تھی اس کی آنکھیں شدت جذبات سے جلنے لگیں ، دل رونے لگا، ہاتھ پاؤں میں لرزش ہونے لگی۔ اب اس کا درد کہاں تھمتا مگر بارش تھم گئی۔ بارش کے بعد لوگ گروہوں کی شکل میں جلے ہوئے پیڑ کو دیکھنے آنے لگے۔ کچھ نے چاچا برکت کی تقدیر پر بات کی تو کچھ نے اسے دلاسہ دیا۔ کچھ نے اللہ کی قدرت بیان کی تو کچھ نے صبر کا درس دیا۔ چاچا برکت نے ہوں کہا اور نہ ہاں ۔ بس خاموشی سے سب کی باتیں سنتا رہا۔ اس کے چہرے پر تشویش تھی نہ ہی کوئی ناگواری بس آنکھیں کرب میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ ایسا کرب جو الفاظ کا محتاج قطعاً نہیں تھا۔

دراصل یہ پیڑ تسبیح کا وہ دھاگہ تھا جس نے مختلف لوگوں کو ایک لڑی میں پرورکھا تھا ۔ چاچا برکت روزانہ عصر کی نماز کے بعد پیڑ کے نیچے موجود قطعۂ زمین کی صفائی کرتا، پانی چھڑکتا ، چارپائیاں بچھاتا اور ان کے درمیان حقہ تازہ کرکے رکھ دیتا۔ آہستہ آہستہ گاؤں کے لوگ پیڑ کے تلے جمع ہونے لگتے گاؤں کے مسائل اور حالات پر بات ہوتی یہ بحث ومباحثہ رات گئے تک جاری رہتا۔ پھر سبھی لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے۔ ان باتوں کے دوران چاچا برکت ایک ایسے سامع کا کردار ادا کرتا جو خاموش تماشائی ہوتا ہے۔

چودھری کی زمین اسی کچی سڑک کے دوسری جانب تھی۔ پیڑ کے نیچے موجود لوگ اسے ایک آنکھ نہ بھاتے۔ اس پیڑ کی وجہ سے چودھری کا ڈیرہ ویران رہنے لگا تھا۔ پیڑ تلے لوگوں کی گہما گہمی دیکھ کر اس کے سینے پر سانپ لوٹتے۔ پیڑ کے جلنے کی خبر جب چودھری کے کانوں تک پہنچی تو باقی لوگوں کے ساتھ ساتھ چا چا برکت کو بھی ڈیرے پر بلوایا گیا۔ پہلے چاچا برکت کو جھوٹے دلاسے دیئے گئے، پھر ڈیرے پر موجود لوگوں سے جلے ہوئے پیڑ کے متعلق رائے لی گئی۔ وہاں پر موجود لوگوں نے عجیب وغریب رائے دی. “جس چیز پرآسمانی بجلی گر جائے وہ منحوس ہوجاتی ہے لہٰذا یہ درخت بھی منحوس ہوگیا ہے”۔ بشیرے نے بھنویں سکیڑتے ہوئے رائے دی۔ “اگر اس درخت کے ٹکڑوں کو زمین میں دبا دیا گیا تو وہاں کبھی فصل نہیں اگے گی۔۔۔ بھائیو” اکرم نے کن اکھیوں سے چودھری کی جانب طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھتے ہوئے کہا “ہماری عورتوں پر جو اس کا سایہ بھی پڑا تو بانجھ ہوجائیں گی۔ جانوروں کو بیماریاں الگ سے لگیں گی۔۔۔۔آفت ہے یہ آسمانی بجلی”۔ دلبر نے چہرے پر فکر مندی اور ہمدردی لاتے ہوئے کہا توسارے لوگ ہی ڈر گئے۔ یہ ان تین بندوں کی اداکاری کا کمال تھا یا لوگوں کی جاہلیت کا۔ ایک الگ ہی بحث وتکرار کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

بالآخر چودھری نے فیصلہ سنایا ” یہ درخت ہم سب کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ جلے ہوئے پیڑ کے گرد دیواربنائی جائے گی کچی سڑک کو موڑ کر درخت سے دور کردیا جائے گا”۔ لوگوں نے تالیاں بجائیں اور خوشی خوشی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ پیڑ کے گرد قدِ آدم دیوار تعمیر کردی گئی، سڑک کوموڑ دے دیا گیا اور یوں پورا گاؤں منحوسیت سے محفوظ ہوگیا۔ پیڑ اجڑ جانے سے چودھری کا ڈیرہ آباد ہوگیا۔ سب اسے گاؤں کامسیحا سمجھنے لگے۔

چاچا برکت روز شام کو اپنے گھر سے پاؤں گھسیٹتا ہوا کچی سڑک پر آجاتا۔ نم آلود آنکھوں سے اس سیاہ اور ٹنڈ منڈ درخت کودیکھتا اور واپس لوٹ جاتا۔ گاؤں کے لوگ اس پر ترس کھاتے تو کچھ اسے دیوانہ کہتے۔ پہلے بھی وہ کم ہی بات کرتا تھا مگر اب تو اس کی خاموشی نے دائمی صورت اختیار کر لی تھی۔ کئی بہاریں آئیں اور آ کرچلی گئیں مگر اس درخت کو زندگی نصیب نہ ہوئی وہ درخت تو جیسے کوئی سنسان کھنڈر تھا۔ ایک ایسا وجود جس سے خواہش اور امیدیں روٹھ چکی تھیں۔ اب وہ یاسیت کی مردہ تصویر بن گیا تھا۔ وقت کی رفتار نے بھی اس کی ذات پر کوئی نقش ثبت نہ کیا۔ بارشوں نے اسے دھویا ضرور، بہاروں نے سہلایا بھی مگر اس کے اندر زندگی کے کوئی آثار پیدا نہ ہوسکے یوں ہی ایک زمانہ بیت گیا ۔ چاچا برکت نے لاٹھی کا سہارا لے لیا۔ سر کے بال سفید ہوگئے چہرے پر جھریوں کا جال بچھ گیا۔ پاؤں جو تھوڑے بہت اٹھتے تھے جواب دینے لگے۔ مگر اس تمام تر پیرانہ سالی کے باوجود وہ ہر روز اپنے دوست کا دیدار کرنے آتا۔

اس مرتبہ بارش کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔ یہاں تک کہ سیلاب کا خطرہ گاؤں والوں کے سر پر منڈلانے لگا۔ بارش تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ بارش اپنی جون تبدیل کرلیتی کبھی بوندا باندی تو کبھی موسلا دھار برسنے لگتی۔ آخر کار گاؤں کے لوگوں کی دعائیں رنگ لائیں اور بارش تھم گئی۔ مکانوں اور فصلوں سے پانی کا اخراج شروع ہوگیا۔ مسلسل بارش نے جہاں نقصان پہنچایا وہیں پورا علاقہ صاف شفاف بھی کرگئی۔ ہر پیڑ کی صورت نکھر آئی۔ ہرجانب مٹی کی بھینی بھینی خوشبو رقص کرنے لگی۔ لوگوں کے لیے یہ بارش آفت تھی مگر بوسیدہ پیڑ کے لیے نعمت ثابت ہوئی۔ درخت میں سے کونپلیں پھوٹنے لگیں پرندے پھر سے شاخوں پر دکھائی دینے لگے ۔ آہستہ آہستہ اجاڑ درخت نے پتوں کی شال اوڑھ لی۔ پیڑ میں دوبارہ زندگی لوٹ آئی۔ بور لگ گیا تو لوگوں نے آپس میں چہ مگوئیاں شروع کردیں۔ گاؤں کے لوگ دور سے ہی نظارہ کرتے رہے قریب جانے کی ہمت کسی نے بھی نہ کی ۔ لیکن پکے آموں کو دیکھ کر من چلے نوجوانوں سے رہا نہ گیا اور وہ بہانے بہانے سے دیوار پھلانگ کر اندر جانے لگے۔

یہ بات پورے گاؤں میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ بابا برکت چارپائی پر اٹھ بیٹھا۔ چودھری کے ڈیرے پر ایک بار پھر لوگوں کا اکٹھ ہوا۔ دیوار گرادی گئی سڑک دوبارہ پیڑ کے قریب آگئی مگر بابا برکت کو اس کی زمین نہ مل سکی۔ موت سے جیت جانے والا پیڑ برکتوں والا درخت کہلانے لگا۔ لوگ دور دور سے آتے اوراس کا پھل بطور تبرک لے جاتے۔ لوگوں نے پورے پیڑ کو منتوں کی سرخ وسبز دھجیوں سے بھردیا۔ کیاریوں کی جگہ آستانہ بن گیا۔ کسی عقیدت مند نے ایک نلکا بھی لگوادیا۔ نلکے کا پانی بھی بیماریوں کی شفا کا باعث بن گیا۔ تھال پر رنگ بہ رنگے پتھروں کی ٹکڑیاں لگائی گئیں لوگوں کی عقیدت میں اضافہ ہونے سے پیڑ کے ارد گرد رونق میں اضافہ ہوگیا۔ ہر جمعرات کو میلے کا سماں ہوتا۔ ویگنوں، بسوں اور ٹرالیوں میں بھر بھر کر لوگ آتے۔ پیڑ پر چڑھاوے چڑھاتے لنگر کھاتے، تبرک لیتے، نذرانے دیتے اور لوٹ جاتے۔ بابا برکت جو پہلے کسی امید کے سہارے تندرست ہونے لگاتھا پھر چارپائی سے جالگا۔ ایک رات اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ٹٹولنا شروع کردیا جیسے زندہ ہونے کا یقین چاہتا ہو۔ لمبی لمبی سانیسں لیں چارپائی کے سہارے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ سرہانے کے نیچے سے چشمہ نکالا اس کا پلاسٹک اپنے کانو کے پیچھے جمایا۔ پاؤں کو دھیرے دھیرے چارپائی سے نیچے اتارا۔ اپنی ڈانگ سنبھالی اور پاؤں گھسٹتے ہوئے دروازے سے باہر آگیا۔ کئی جگہ بیٹھ کر سانس لینے کے بعد پیڑ تک جا پہنچا کتنے لوگ زمین پر بے سدھ بکھرے پڑے تھے۔ پاس ایک “کونڈی ڈنڈا” پڑا تھا۔ برتنوں کی تہوں میں ہرا ہرا پانی اب بھی موجود تھا۔ بابا ان کے درمیان سے لاٹھی ٹیکتا پیڑ کے تھال تک جا پہنچا۔ جیسے تیسے کرکے تھال پر چڑھ گیا مگر سانس پھول چکا تھا اور ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔ ایسے لگتا تھا کہ بابا صدیوں کا لمباسفر طے کرکے یہاں تک پہنچا ہو۔ اس نے بے اختیار پیڑ کو جپھا ڈال لیا اور سسکنے لگا۔ ایک عجیب طرح کی ٹھنڈک اس کے رگ وپے میں اترنے لگی۔ اس پر جیسے خماری سی چھانے لگی۔ ایسا خمار کہ جس کا ذائقہ پہلے نہیں چکھا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کرلیں اور خود کو آزاد کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

منحوس (افسانہ)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں