355

مصلحت کا دربان (افسانہ)

ثناء احمد کانجو

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

اکثر لوگوں سے سنا ہے کہ وہ زندگی کی حقیقت کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ صحیح طور پر اسے سمجھ سکیں لیکن ان کے ہاتھ کچھ نہیں لگتا کچھ بھی نہیں۔ کیونکہ زندگی کی حقیقت کو کوئی چاہ کربھی نہیں سمجھ سکتا۔ زندگی ایک ایسی پہیلی کی مانند ہے جس کاجواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے انسان اپنی ذات تک کو کھودیتا ہے اور زندگی کا اصل رنگ تو ہمیں ہماری خواہشات دکھاتی ہیں۔ خواہشات کے بغیر ہماری زندگی بے رنگ بے رونق ہوتی ہے۔ خواہشات ہی تو ہیں جو انسانی وجود کو ہروقت بے چین رکھتی ہیں۔ زندگی درحقیقت کچھ نہیں خواہشات کی دستک ہی زندگی کا دروازہ کھولتی ہیں۔ لیکن دروازہ کھلنے کے بعد وہاں ایک حکمران ہوتا ہے اور ہماری زندگی کی حکمران ہے ’’ہماری تقدیر‘‘ ’’ہماری قسمت‘‘ دروازہ کھلتے ہی ہمیں اپنی خواہشات سے بھری ٹوکری کو تقدیر تک پہنچانا ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ ہوسکے کہ ہماری خواہش کو تکمیل کادرجہ ملے گا یا نہیں ۔

انسان اپنی ناقص عقل کی بناء پر زندگی کو خوبصورت بنانے کے لیے ہر طرح کے خواب دیکھتا ہے۔ ہرطرح کی خواہش کو دل میں پروان چڑھنے دیتا ہے۔ وہ انہیں امیدوں کے لقمے کھلاتا ان کی پرورش کرتا اور ساتھ خود بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور جب انسان اپنی لہر میں ہوتا ہے تو وہ ہر حد بھول جاتا ہے وہ یہ خیال نہیں رکھتا کہ حاصل کی چاہ میں گرفتار ہے یا لاحاصل کی چاہ میں ۔ وہ بس خواہش کرتے چلاجاتا ہے اور زندگی میں آگے بڑھتے چلاجاتا ہے۔ خدا کی مصلحت سمجھنا ہمارے بس کی بات نہیں لیکن ہم اپنی ناکام خواہشوں کا بوجھ لے کر ایک بار اللہ کے ہاں ضرور جاتے ہیں۔ جہاں ہمارا سامنا مصلحت کے دربان سے ہوتا ہے۔ جس نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا یہ خواہش اور اس کا حصول ہمارے حق میں بہتر ہے یا نہیں۔ اگر بہتر نہیں تو اس میں کوئی مصلحت ہوگی۔ مصلحت کا دربان پھر اپنی رائے بتاتا ہے اور تقدیر اپنا فیصلہ سناتی ہے اور ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے کاسے میں جو کچھ ڈالا گیا وہ ہماری پسند کا ہے یا نہیں۔ بس تقدیر اپنی مرضی سے ہمارے کاسے کو بھرتی ہے اور جانے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔

لیکن انسانی فطرت بھی عجیب ہے ان سب مراحل سے گزرنے کے باوجود بھی لاحاصل کی چاہ نہیں چھوڑتی اور لاحاصل کی خواہش کی محرومی انسان سے ہر لذت چھین لیتی ہے اس پر ایک پاگل سر پر سوار ہوجاتا ہے جواسے گمراہ کردیتا ہے اور یہ گمراہی انسان کی ذات کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیتی ہے۔ کبھی اسے لگتا ہے کہ وہ بہت ہی خوش قسمت ہے اتنا کہ ہاتھ بڑھا کے جس چیز کو چاہے چھوسکتا ہے اور کبھی اتنا محروم لگتا ہے کہ اپنا آپ بھی پرایا اور اسی کشمکش میں انسان بکھر جاتا ہے۔

لاحاصل کی تمنا کاش گزرتی رات کی طرح ہوتی ۔ چاہے اندھیرا ہوتا لیکن گزر توجاتا لیکن نہیں۔ لا حاصل کی تمنا تو دل کے ساتھ دھڑکتی ہے جو ناصبح رکتی ہے نا شام نا سوتے رکتی نا ہی جاگتے ایسے ہی نا تویہ تکمیل کی راہ دکھاتی ہے اور نا ادھورے پن کا احساس ختم ہونے دیتی اور یہ ادھورا پن ہمیں مسلسل اذیت میں رکھتا ہے اور اس اذیت میں تب صرف آنسو نہیں آتے بلکہ تب دل کرتا ہے کہ اللہ اور ہمارے درمیان جو بھی حجاب ہے وہ ختم ہوجائے تاکہ ہم خود جا کے یہ سوال کرسکیں کہ آخر یہ کس گناہ کی سزا ہے؟ اگر سزا نہیں تو پھر یہ آزمائش کیوں؟؟

اللہ کے فیصلے ہماری خواہش کے محتاج نہیں ہوتے لیکن کچھ خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جب دل چاہتا ہے کہ اللہ اپنا فیصلہ بدل دے اور صرف وہ سنے جو ہم کہنا چاہتے یا پھر یوں کہیے کہ ہمیں وہ دے جو ہم مانگنا چاہتے ہیں۔ خدا یا تو ہمیں لاحاصل کی چاہ سے دور رکھے یا ہمیں اس قابل بنائے کہ مصلحت کا دربان تقدیر سے ہماری خواہش کی تکمیل کی سفارش کرسکے۔ (آمین!)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

مصلحت کا دربان (افسانہ)” ایک تبصرہ

  1. بہت اچھا لکھا ہے آپ نے مگر یہ افسانہ نہیں ہے ڈئیر سیس یہ مضمون ہے..افسانے میں کہانی بنی جاتی ہے..

اپنا تبصرہ بھیجیں