540

اے روحِ قائد ہم آج بھی ۔۔۔۔۔!!شرمندہ ہیں۔(شاہد مرتضی چشتی)

تحریر: شاہد مرتضی چشتی.

14 اگست 1947ء کو ہمیں آزادی نصیب ہوئی اور ہماری محرومیوں اور لاچاریوں کا خاتمہ خود سے کرنے کو ہمیں ایک خطّہِ آزاد پاکستان کی شکل میں نصیب ہوا۔ اے قائدِ اعظم!۔۔۔ تیرا احسان ہے احسان۔۔۔اے قائدِ اعظم ؒ آپ نے اپنی زندگی وقف کرکے ہماے لیے یہ سب کچھ کیا تاکہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں تا قیامت اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق خدائے لم ویزل کے بتائے ہوئی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔۔۔ کامیاب زندگی۔۔۔ پرسکون زندگی۔۔۔ آپ سے جب یہ سوال ہو اتھا کہ نئی ریاست کا انتظام و انصرام چلانے کے لیے آپ نے کیا قانون سازی اور راہنما اصول وضع کئے ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ ہمارا قانون اور اصول تو پہلے سے موجود ہے قرآن اور سنتِ رسول ﷺ کی شکل میں۔۔۔۔ 14 اگست 1947ء کو ایک تقریب میں جب اقتدار آپ کے سپرد کرتے ہوئے انگریز سرکارنے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ نئی مملکت میں اقلیتوں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جائے جو شہنشاہِ اکبر کے دور میں تھا۔۔۔۔تو اے قائدِ اعظم آپ نے برملا کہا تھا کہ اقلیتوں کے ساتھ حسن سلوک اور انسانی حقوق کی ہماری تاریخ اتنی قریب کی نہیں ہے۔۔۔ بلکہ یہ تو کئی صدیوں پہلے ہمارے نبی اکرم ﷺ نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھتے ہوئے طے فرمادی تھی کہ اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جانا ہے۔۔۔۔آپس میں کیسے حسن سلوک سے رہا جانا ہے۔۔۔ امن و آشتی کی فضا کیسے قائم کی جانی ہے۔۔۔ برداشت اور صبر کس چیز کا نام ہے۔۔۔ ان سب کے عملی مظاہرے کر کے ہمیں سب کچھ از بر کروا دیا گیا ہے۔۔۔۔
لیکن اے روحِ قائدؒ ۔۔۔۔! آج اتنے برس بعد بھی ہم ان اصولوں، ان قوانین اور اس حسنِ سلوک، برداشت اور امن کی نعمت سے محروم ہیں۔۔۔ آج یقیناًآپ کی روح تڑپتی ہوگی کہ آپ نے کس قوم کی خاطر اپنی زندگی وقف کی تھی۔۔۔ ہم ہر سال جشنِ آزادی مناتے ہوئے خود سے اور آپ کی روح سے عہد کرتے ہیں کہ بس جو ہوچکا سو ہو چکا اب ایسا نہیں ہوگا۔۔۔ اب ہم راہِ راست پر آجائیں گے۔۔۔ آج سے ہم محمد عربی ﷺ کی سیرت کی روشنی میں اپنے او رریاست کے معاملات چلانے کا عہد کرتے ہیں۔۔۔ آج ایسے عہد کرتے ہوئے ہمیں برسہا برس ہو گئے لیکن ۔۔۔۔ آج بھی پرنالہ وہی کا وہی بہہ رہا ہے۔۔۔ اے روحِ قائدؒ ہم آج تک تیرے سامنے سرخرو نہیں ہوسکے بلکہ شرمندہ ہی رہے اور اے روح قائد آج بھی حالات کچھ بہتر نہیں ہیں بلکہ ۔۔۔ اے روح قائدؒ ہم آج بھی۔۔۔۔ !!شرمندہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “اے روحِ قائد ہم آج بھی ۔۔۔۔۔!!شرمندہ ہیں۔(شاہد مرتضی چشتی)

اپنا تبصرہ بھیجیں