295

امراض قلب کے عالمی دن کے موقع پر ڈسرکٹ انٹی ٹی بی ایسوسی ایشن کے زیرانتظام مجلس مذاکرہ کا انعقاد

پاکپتن (حیدر علی شہزاد سے) امراض قلب کے عالمی دن کے موقع پر ڈسرکٹ انٹی ٹی بی ایسوسی ایشن کے زیرانتظام مجلس مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا اور اسی حوالے سے کیک بھی کاٹا گیا۔اس موقع پر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔ حکیم لطف اللہ جنرل سیکرٹری نے بتایا کہ دل کے امراض اور ہارٹ اٹیک کی بنیادی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر ۔کولیسٹرول تمباکو نوشی ۔ غیر متوازن غذا شوگر اور موٹاپا ہے اسکے علاوہ پریشانی۔ناراضگی۔زیادہ کام کرنا۔تیز مرچ مصالے۔ چکنائی تیل والے مرغن کھانے امراض قلب سمیت متعدد بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔صدر ڈاکٹر جمیل الرحمان نے اپنا اظہار خیال کرتے ہوے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً دو لاکھ افراد دل کے امراض کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں چھوٹے قد والے افراد میں بھی امراض قلب کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان افراد میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلسیرائیڈ بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ڈاکٹر غلام عبّاس صابر انچارج ٹی بی کلنک DHQ نے اپنے خیالات کے اظہار میں کہا کہ گھی۔ گردے ۔ کلیجی ۔سری پائے ۔مکھن ۔پنیر ۔انڈے کی زردی ۔بلائی۔تلی ہوئی اشیاء پراٹھے۔ سموسے۔ حلوہ پوری اور کافی کے استعمال سے بھی امرض قلب اور ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ترشاوہ پھلوں ۔ڈرائی فروٹ ۔زیتون۔ سبزیاں اور دودھ کا استعمال امرض قلب کے خطرات کو کم کرتا ہے۔ صبح کا ناشتہ لازمی کرنا چاہئے کیونکہ ناشتہ نا کرنے سے چربی کے ٹکڑے دل کی شریانوں میں جمع ہو جاتے ہے جو کہ خون کی نالیوں کو بند کر دیتے ہیں۔جو دل کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی چیف ایڈیٹر بریلینٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے بتایا کہ بعض غذاؤں سے انکا علاج ممکن ہے۔ اگر لہسن اور پیاز کو ملا کر کھایا جائے تو اس سے سلفر کی مقدار بڑھ جاتی ہےاور انٹی آکسیڈنٹس کی بڑی مقدار حاصل ہوتی ہے۔جو دل کی نالیوں میں جمی چربی کو کم کرنے م مدد کرتی ہے۔انار کی چائے سبز چائے۔ متوازن ورزش۔ خشک میوہ جات۔خوراک کے تناسب کی طرف توجہ۔پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال امراض قلب اور ہارٹ اٹیک کو کنٹرول کرنے میں بہت زیادہ مدد گار ثابت ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں