352

کپتان کی حکومت کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہے ؟

تحریر پیر شاہد علی چشتی ایڈووکیٹ بہاولنگر

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

” ذوالفقار علی بھٹو نے بھی روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا اور غریب مزارعوں کو زمینوں کا لالچ دے کر پنجاب سے ووٹ حاصل کیا۔غریب عوام اس چکر میں آگئی کہ ایوب خان کی زرعی اصلاحات کی طرح وہ ان زمینوں کے مالک بن جائیں گے جو وہ بطور مزارعین کاشت کررہے ہیں ، زمین کی ملکیت کے خواب پر پیپلزپارٹی نے ہمیشہ غریب لوگوں کو بےوقوف بنایا۔آج جب وہ نسل ہی ختم ہو چکی ہے تو پیپلزپارٹی بھی اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔آج کپتان نے تبدیلی اور نیا پاکستان کے نعرے پر بھٹو کی طرح عوام سے ووٹ حاصل کیے ہیں،حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ کپتان اور ان کی ٹیم میں وہ ویژن ہی نہیں جو ملک میں اتنی بڑی تبدیلی برپا کر سکے۔یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ کپتان کی پالیسیوں سے سیاست دانوں کو لگام دی جاسکے مگر ان کی اس پالیسیوں سے ملک کے انتظامی ادارے سیاسی مداخلت سے شاید محفوظ ہوجائیں مگر وہ تو پہلے ہی اس قدر طاقتور اور توانا ہیں کہ ان کو تو عدلیہ سمیت کوئی مائی کا لال پوچھ نہیں سکتا۔ہفتہ کی چھٹی کو ختم کرنے پر کپتان اور ان کی کابینہ کی ہچکچاہٹ محسوس کی جاسکتی ہے۔وہ منہ زور اور ایور گرین بیوروکریسی سے پنگا نہیں لے سکتے اور اگر کپتان نے ان سے پنگا لیا تو ذوالفقار علی بھٹو اور نوازشریف کا انجام کپتان کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔جو سول اور ملٹری بیوروکریسی سے ٹکر لیکر اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کو بدلے میں پھانسی اور نوازشریف کو پہلے جلاوطنی اور اب اڈیالہ جیل میں قید مل چکی ہے اور ابھی انکے انجام کا کھیل جاری ہے ۔پاکستان کی ستر سالہ سیاسی و حکومتی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو پاکستان میں ہر پندرہ بیس سال بعد بیوروکریسی نے اپنے من پسند حکومتی نتائج حاصل کرنے کے لئے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے ہی طاقت کا کھیل سیاسی و حکومتی سطح پر کھیلنا شروع کر دیا تھا۔پھر ابیڈو جیسے قوانین کا سہارا لیکر ہمیشہ سے طاقت پکڑتی سول حکومتوں کو کرپشن کے نام پر برطرف کرتی رہیں۔پھر آٹھویں ترمیم کا سہارا لیا۔پھر مشرف کی بلدیاتی اصلاحات کے ذریعے بےنظیر بھٹو اور نوازشریف کو انکی دو دو حکومتوں کی برطرفی کے بعد جلاوطن کردیا مگر دونوں نے لندن میں سول اور ملٹری بیوروکریسی سے بچنے کے لئے چارٹر آف ڈیموکریسی کا معاہدہ کرلیا جسے ختم کرنے کے لئے زرداری صاحب کو صدر پاکستان بواننے کا لالچ دے کر ختم کیا گیا ۔پھر مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کے روابط برقرار رہے تو عمران خان کو وزیراعظم بننے کا لالچ دے کر انکی فرینڈلی اپوزیشن کا کام تمام کیا گیا ہے اور پانامہ سکینڈل کے ذریعہ نوازشریف کو مرکز اور پنجاب دونوں سے ہٹایا گیا ہے۔کپتان کی حکومت ان کے لئے بہت کمزور ہے اور بیوروکریسی کپتان کی عوامی مقبولیت کی بنا پر اپنا کھیل جتنی دیر جاری رکھ سکتی ہے،رکھے گی ورنہ کپتان اور ان کی کمزور حکومت کو انکے لئے منظر سے ہٹانا زیادہ مشکل نہیں کیونکہ کپتان سیاسی و حکومتی تجربہ سے فارغ ہیں اور ان کے ادھر وفاقی کابینہ میں شامل تمام اہم وزراء اور صوبوں کے حکمران اور وزراء انکی مرضی کے نہیں ہیں اور بیوروکریسی کے خاص بندے ہیں۔اس کو پرکھنے کے لئے کپتان کی کا بینہ کے شیخ رشید،زبیدہ جلال،پنجاب میں سپیکر چوہدری پرویز الہی اور عثمان بزدار کی وزیر اعلی پر نامزدگی سے ہی کپتان کی اپنی طاقت کا اور قابلیت کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ کپتان کی پالیسیوں اور ان کی حکومت کی دوڑ انکے اپنے ہاتھ میں ہے یا یہ دوڑ کسی اور کے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں